Wednesday, July 06, 2011

فوج اور عوام میں "شدت پسندی" کا رجحان

(Download "Jameel Noori Nastaleeq" font.)

گذشتہ ماہ فوج نے بریگیڈئر علی خان کو گرفتار کیا. موصوف پہ حزب التحریر کے ساتھ تعاون یا تعلق کا الزام ہے. پھر اخبارات میں یہ پڑھنے کو بھی ملا کہ اسی سلسلے میں چار میجر حضرات سے بھی پوچھ گچھ کی گئی. اخبارات میں یہ بات زیر بحث آئی کہ پاکستانی فوج میں شدت پسندی کا رجحان کب سے شروع ہوا، کیوں ہوا، اور اس "منفی" رجحان کے فروغ میں کن سیاسی اور عسکری رہنماؤں کا کردار ہے. سیکولر حضرات کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ضیاء الحق صاحب کا کیا دھرا ہے. انہی نے فوج کو اور پاکستان کو اسلامیانے کی "مذموم سازش" کی تھی. سیکولر طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ مذہب کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی اور مذہب کے نام پہ قتل و غارت کو تو بڑھنا ہی تھا.

پاکستانی فوج میں دین پسندی کا رجحان منفی ہے یا مثبت، فوج اور ملک کو اسلامیانے کی کوشش مذموم سازش تھی یا اچھا خیال، ان سوالات سے تعرض کرنا مجھے فی الوقت مقصود نہیں ہے. فی الحال مجھے کچھ اور بات کرنا مقصود ہے.

عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان نے دباؤ میں آکر افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے. ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے اس کے علاوہ کوئی اور تاثر دینے کی کچھ خاص کوشش بھی نہیں کی. شاید اس کے علاوہ ان کے پاس اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کے لئے کوئی اور وجہ ہے بھی نہیں. انہوں نے جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کسی اخلاقی یا اصولی بنیاد پر نہیں کیا. اگر وہ کوئی اصولی موقف بیان کرنے کی کوشش بھی کریں تو ان کی ساکھ ایسی نہیں ہے کہ لوگ ان کی بات کا یقین کر لیں. لوگ بہرحال یہی سمجھتے ہیں کہ اس جنگ میں پاکستان کی شمولیت محض امریکی دباؤ کی وجہ سے ہے. نیز عوام میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ہماری قیادت امریکہ کے گھر کی لونڈی ہے.

پھر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم معاشروں میں "قومیت" مقبول نہیں ہوسکی. مسلمانوں کے لئے ان کا مذہب بالعموم ان کی قومی شناخت سے زیادہ اہم رہا ہے. دین کی طرف رغبت رکھنے والا کوئی بھی مسلمان جب ریاست کے مفاد اور دین کی توقعات میں ٹکراؤ محسوس کرتا ہے تو دین کی توقعات کو ترجیح دیتا ہے. چنانچہ پرویز مشرف صاحب کا نعرہ "سب سے پہلے پاکستان" کچھ خاص مقبول نہیں ہوسکا. طالبان کا دست و بازو بننے والے نوجوان جو ریاست سے متصادم ہیں، وہ پاکستانی ہی ہیں جن کو حکمرانوں کی امریکہ دوستی گوارا نہیں ہے، جو امریکی جنگ میں پاکستان کی حمایت سے خوش نہیں ہیں. ان کے لئے پاکستان اور پاکستانی ریاست کم اور ان کی سمجھ بوجھ کے مطابق ان کے دین کی توقعات زیادہ اہم ہیں. اسی نفسیات کے زیر اثر امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں پلنے بڑھنے والے مسلم نوجوان اکثر اپنی ریاست سے وفاداری کا طوق گردن سے اتار کر کہیں بم دھماکہ کر بیٹھتے ہیں، کبھی اپنے ہی ملک کے شہریوں پر گولیاں چلانے لگتے ہیں، یہ سوچ کر کہ اس طرح وہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے ان کی ناانصافیوں کا بدلہ لے سکیں گے اور انھیں عالم اسلام کے ساتھ مزید زیادتیاں کرنے سے باز رکھ سکیں گے.

پاکستانی فوج کے جوان اور افسر بھی ایک مسلم معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں. فوج کے سارے نہ سہی، بہت سارے جوان اور افسر بحیثیت مسلمان جہاد کے شوقین ہیں، اور اپنے کام کو ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر کرتے ہیں. عوام کی طرح فوج میں بھی ایسے جوان اور افسر موجود ہیں جو افغانستان میں امریکہ کی جنگ سے ناخوش ہیں، اور چنانچہ اس جنگ میں پاکستان کی حمایت سے بھی ناخوش ہیں. عوام کی طرح فوج میں بھی یقینا ایسے لوگ موجود ہیں جن کو ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی امریکہ دوستی گوارا نہیں ہے. ان کو اگر ان کی دینی اور قومی غیرت اور ان کا جذبۂ جہاد اکسائے کہ وہ قیادت کی بزدلی کا کچھ توڑ کریں، اور وہ حزب التحریر، طالبان، القاعدہ، اور ایسی دیگر تنظیموں کی طرف راغب ہو جائیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے. میڈیا نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ بریگیڈئر علی خان گذشتہ کچھ سالوں سے فوج اور حکومت کو امریکہ کے ساتھ کمزور رویے پر ملامت کر رہے تھے، اور بالآخر انہوں نے کور کمانڈرز کے اجلاس میں شدت کے ساتھ پاکستان کی حدود میں اسامہ کے خلاف ہونے والی امریکی کاروائی پر اپنے خیالات کا اظہار کر ڈالا، پھر اسی شام انھیں زیر حراست لے لیا گیا. ان حالات و واقعات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ سوچنا ناگزیر ہو جاتا ہے کہ بریگیڈئر صاحب کے خلاف کاروائی کا پس منظر کچھ اور ہی ہے، اور بہت ممکن ہے کہ ان کا حزب التحریر سے کوئی تعلق نہ ہو. بہر حال اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ موصوف کا حزب التحریر کی طرف رجحان تھا، تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ اگر سیاسی اور عسکری قیادت امریکہ کے ساتھ جی حضوری کا سلسلہ جاری رکھیں گے، تو یہ سب تو ہونا ہی ہے. یاد رہے کہ گذشتہ برس جنوری میں بھی دو کرنل حضرات پر حزب التحریر کی رکنیت کا الزام لگا تھا. پھر کراچی میں مہران بیس پر حملے کے حوالے سے بھی یہی بات سامنے آرہی ہے کہ حملہ آوروں کو اندر سے مدد حاصل تھی. امریکہ کو بھی یہی شکوہ ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ چپکے چپکے طالبان اور القاعدہ کی مدد کرتے ہیں. امریکہ اور پاک فوج کے درمیان اعتماد کیونکر ممکن ہو جب فوج کے جوان اور افسر بھی باقی قوم کی طرح امریکی جنگ کو ناجائز سمجھتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ امریکی جنگ میں پاکستان کی غیر اصولی حمایت نے فوج کی اکائی کو بھی متاثر کر دیا ہے.

اگر سیاسی اور عسکری قیادت امریکہ کی باجگزاری سے جلد باز نہ آئے، تو فوج اور عوام میں طالبان، القاعدہ، حزب التحریر، اور اسی قسم کی دوسری تنظیموں کی طرف رجحان اور بڑھے گے، فوج کی اکائی بھی مزید متاثر ہوگی. امریکہ کے آگے سر جھکانے والےسیاسی اور عسکری قائدین کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ عوام کو صحیح روش پر قائم رہنے کہیں. امریکی دباؤ کا شکار ریاست اپنے گھر کی اصلاح نہیں کرسکتی، کیونکہ اصلاح کی کسی بھی کوشش کو عوام امریکی دباؤ کا نتیجہ تصور کریں گے. بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر ہی خود احتسابی کا عمل شروع ہوسکتا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں منفی رجحانات کی اصلاح کے لئے کوششیں اسی وقت صحیح معنوں میں بارآور ہوسکیں گی جب امریکہ افغانستان سے نکل جائے یا پاکستان امریکہ کا ساتھ چھوڑ دے. مزید یہ کہ خود احتسابی کا عمل اسی صورت کامیاب ہوسکتا ہے جب قیادت اعلی کردار کا مظاہرہ کرے اور فیصلے اصولی بنیادوں پر کیے جائیں. اگر ریاست "نظریۂ ضرورت" کے تحت فیصلے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی، تو عوام کو نصیحت نہیں کی جاسکتی.

آخر میں یہ بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ جس فتنہ کا محرک مذہب کا غلط فہم ہو، اس کا علاج مذہب کے صحیح فہم کے ذریعے ہی ممکن ہے. پاکستان کا سیکولر طبقہ اور حکومتی حلقے عام طور پر پاکستان کو درپیش مسائل کے حل کے لئے سیکولرزم کا پرچار اور دینی تعلیم اور مخصوص اسلامی نظریات (مثلا جہاد) کی حوصلہ شکنی تجویز کرتے ہیں. ایسی حکمت عملی کو عوام سوائے سازش کے اور کچھ تصور نہیں کرسکتے. جس آدمی کے لئے دین اہم ہو، اس کو دین سے دور کرنے کی کوشش کی جائے، تو وہ اسے سازش نہیں تو اور کیا تصور کرے گا. خود احتسابی اور اصلاح کی ایسی کوئی بھی کوشش جو مذہب کی حوصلہ شکنی تصور کی جائے، اس کا ثمرآور ہونا محال ہے. پاکستان کو درپیش مسائل کا حل مذہب کی حوصلہ شکنی سے نہیں بلکہ حوصلہ افزائی سے ممکن ہے. جب مذہب کے معاملے میں لوگوں کی کم فہمی اور کم علمی کا علاج ہوگا تو مذہب کے نام پہ پروان چڑھنے والے منفی رجحانات خود بخود دم توڑ دیں گے، اور لوگوں کی مذہبیت مثبت اور تعمیری رستوں پہ چل نکلے گی.

پاکستان کی تاریخ میں یہ کٹھن وقت معاملہ فہمی اور حکمت کا متقاضی ہے.