Tuesday, November 01, 2011

متعلق از گستاخئ رسول: تنظیم اسلامی کراچی کے امیر حافظ نوید کے ویڈیو کلپ پر تبصرہ

(Download "Jameel Noori Nastaleeq" font.)


مذکورہ ویڈیو کلپ یوٹیوب پہ دیکھا جاسکتا ہے:
http://www.youtube.com/watch?v=3euLLjkEa_I&feature=youtu.be

ویڈیو کلپ میں محترم نے فرمایا کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا اس حوالے سے اتفاق ہے کہ شاتم رسول کی سزا موت ہونی چاہئے! مکاتب فکر کے اس "اتفاق" کی دلیل کے طور پہ کچھ فقہی کتابوں کا حوالہ بھی دے دیتے تو اچھا ہوتا.

محترم فرماتے ہیں، "آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کبھی کسی ایسے شخص کو معاف نہیں کیا جس نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کی ہو." اس بڑھیا کے بارے میں کیا خیال ہے جو (صلى الله عليه وسلم) پر کوڑا پھینکتی تھی؛ جب اس نے ایک دن کوڑا نہیں پھینکا تو رسول (صلى الله عليه وسلم) اس کی خبر لینے پہنچ گئے، اس کو بیمار پایا، تو اس کی تیمارداری کی؟

جن واقعات کا محترم نے ذکر کیا ہے، ان میں سے کچھ تو کمزور روایات سے ہم تک پہنچے ہیں، اور جو قابل بھروسہ روایات سے پہنچے ہیں، ان سے بھی پاکستان میں نافذ ناموس رسالت ایکٹ کا جواز نہیں بنتا.

کعب بن اشرف، جس کا محترم نے ذکر کیا ہے، یہودی قبیلہ بنی نضیر کا سردار تھا. رسول (صلى الله عليه وسلم) کی مدینہ تشریف آوری اور مدینہ میں مسلمانوں کی سیاسی قوت قائم ہونے سے اس کے اثر و رسوخ میں کمی آئی تھی، چنانچہ اسے اسلام اور رسول (صلى الله عليه وسلم) سے بغض تھا. بدر میں مسلمانوں کی جیت کے بعد یہ کھلم کھلا مسلمانوں کی دشمنی پر اتر آیا. اس نے مکّہ والوں سے تعزیت کرنے کے لئے مکہ کا دورہ کیا، اور میثاق مدینہ کو نظر انداذ کرکے قریش کو دوبارہ حملے کے لئے اکسایا اور انھیں دوسرے حملے کی صورت میں مدد کی یقین دہانی کرائی. پھر مدینہ واپس آکر قریش کے "شہداء" کی شان میں نظمیں کہیں، جن میں رسول (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کو برا بھلا بھی کہا. اس نے ایسی نظمیں بھی کہیں جن میں اس نے مسلم خواتین کے بارے میں بیہودہ باتیں کیں. ایسی روایات بھی موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے رسول (صلى الله عليه وسلم) کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی. چنانچہ رسول (صلى الله عليه وسلم) نے اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دے دیا.

میثاق مدینہ کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کی سیاسی قوت کے خلاف کعب بن اشرف کی تمام تر سازشوں کو نظر انداز کرکے یہ کہنا کہ اس کو محض گستاخئ رسول کی بنیاد پہ قتل کیا گیا تھا اور اس واقعہ سے پاکستان کے ناموس رسالت ایکٹ کے لئے جواز لانا، یہ بات کچھ معقول نہیں لگتی. اس شخص کا قتل مسلمانوں کی سیاسی قوت کے استحکام کے لئے ضروری تھا. تاریخ کے اوراق سے یہ بات واضح ہے کہ اسے محض گستاخئ رسول کی بنا پر قتل نہیں کیا گیا.

اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر جن چار لوگوں کو قتل کیا گیا وہ تسلسل اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اسلام اور اس کے شعائر کا مزاق اڑاتے رہے تھے اور اسلام دشمنی میں انھوں نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی. ان کو بھی محض رسول (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کی بنا پر قتل نہیں کیا گیا تھا، بلکہ وسیع تر اسلام دشمنی کی بنا پر سزا دی گئی تھی. ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول میں ان کے کرتوتوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے. ان کے کرتوت سیرت کی کسی معتبر کتاب (مثلا صفی الرحمن مبارکپوری صاحب کی الرحیق المختوم) میں بھی پڑھے جاسکتے ہیں.

محترم نے ایک اور واقعہ کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ایک نابینا مسلمان نے اپنی غیر مسلم (غالبا یہودی) لونڈی کو قتل کردیا، اور اس پر رسول (صلى الله عليه وسلم) نے ان سے مواخذہ نہ کیا. اس عورت کا نام عصماء بنت مروان تھا. اول تو ابو داود اور نسائی کی جن روایات میں یہ واقعہ مذکور ہے، ان کی صحت متنازعہ ہے، اور ان روایات میں باہمی تضاد پایا جاتا ہے. دوم یہ کہ اگر اس واقعہ کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے، تو یہ بات نوٹ کرنی چاہئے کہ ان روایات کے مطابق یہ عورت بار بار ٹوکنے کے باوجود عادتا رسول (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرتی تھی، اور بالآخر صحابی نے اسے قتل کردیا، اور رسول (صلى الله عليه وسلم) نے اس قتل کی توثیق کردی. اس کے برعکس پاکستان میں رائج قانون ایک عادی اور ہٹ دھرم مجرم جو کھلم کھلا اور بار بار رسول (صلى الله عليه وسلم) کی ذات گرامی یا دیگر شعائر اسلام کا مذاق اڑائے اور اپنے کیے پر نادم نہ ہو، اور ایک ایسے فرد میں جو مسلمانوں کی بدسلوکی سے تنگ آکر زندگی میں ایک آدھ بار رسول (صلى الله عليه وسلم) کی ذات یا اسلام کے دیگر شعائر کے بارے میں کچھ بڑبڑادے فرق نہیں کرتا.

رسول نے اپنی زندگی میں اسلام کے شعائر یا رسول کی ذات مبارکہ کا مذاق اڑانے والے جن لوگوں کو بھی موت کی سزا دی وہ انتہائی شریر دشمنان اسلام تھے. اس کے برعکس ایسے کئی لوگ جو رسول (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرتے تھے لیکن مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں ملوث نہیں تھے اور مسلمانوں کی سیاسی قوت کے لئے خطرہ نہ تھے، ان سے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے صرفِ نظر کیا، بلکہ بسا اوقات دعوت کی غرض سے ان کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا.

یہ بات بھی غور طلب ہے امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے نزدیک اس سلسلے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں وه اس بات کے لئے ناکافی ہیں کہ شاتم رسول کے لئے "حد" مقرر کی جائے. ان کے مطابق اگر کوئی شخص بار بار اور کھلم کھلا رسول (صلى الله عليه وسلم) کی شان میں گستاخی کرے، اور اپنے اس فعل پہ تائب بھی نہ ہو، تو اسے مصلحت کے پیش نظر بطور "تعزیر" سزائے موت دی جاسکتی ہے. (کچھ قاری "حدود" اور "تعزیر" کے فرق سے واقف نہیں ہوں گے، چنانچہ اس بات کا بھی ذکر کردوں: "حدود" وه سزائیں ہوتی ہیں جو اللہ نے مقرر کر دی ہیں، اور "تعزیرات" وه سزائیں ہوتی ہیں جو انسانی قانون سازی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور قابل ترمیم ہوتی ہیں.) احناف کا یہ موقف ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول میں ذکر کیا ہے.

بدقسمتی سے پاکستان کے مذہبی لوگ بشمول علماء اس معاملے میں جذبات کی رو میں بہہ گئے ہیں، اور سوچنے سمجھنے کو تیار نہیں ہیں. ان کے پاس سیرت کی کتابوں میں وارد ہونے والے کچھ واقعات سے غلط استدلال اور کچھ کمزور احادیث کے علاوہ کوئی ٹھوس دلائل موجود نہیں ہیں.